ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / ملک میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ ممکن نہیں؛ پرسنل لا بورڈ، ویمنس ونگ کے پروگرام میں مقررین کا اظہار خیال

ملک میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ ممکن نہیں؛ پرسنل لا بورڈ، ویمنس ونگ کے پروگرام میں مقررین کا اظہار خیال

Fri, 03 Feb 2017 00:13:58    S.O. News Service

نئی دہلی 2/ فروری (ایس او نیوز)  ہمارے ملک ہندوستا ن میں مختلف رسم و رواج اور تہذیبیں پائی جاتی ہیں، زبانیں الگ الگ ہیں،شادی بیاہ کے معاملے میں ہندوطبقہ میں نارتھ انڈیا اور ساؤتھ انڈیا میں الگ الگ رواج ہیں۔ اس کثیر اللسانی اور مختلف تہذیبوں والے ملک میں یکساں سول کوڈ کا نفاذ ممکن نہیں۔ ان خیالات کا اظہار پروفیسر شکیل احمد قاسمی، صدر شعبہ اُردو پٹنہ بہار نے کیا۔ وہ یہاں ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کی جانب سے خواتین و طالبات کیلئے دیو بند میں ایک روزہ ”تحفظ شریعت اوراصلاح معاشرہ کانفرنس 2017“ کے پہلے سیشن میں مہمان خصوصی کے طور پر خطاب فرما رہے تھے۔  انھوں نے کہا کہ شریعت اسلامی نے عورت کو نکاح میں رضامندی کا حق دیا، مہر کا حق عطا کیا، نفقہ کی ذمہ داری مرد پرڈالی گئی، خلع کا حق اوروراثت میں بیٹیو ں اور بہنوں کو حق عطا کیا گیا۔ عورتوں کی آزادی کے معاملے پرمخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اسلام میں عورت کو آزادی 14 سو سال قبل ہی عطاکردی گئی تھی۔ خلفاء راشدین و امیر المؤمنین کے دور میں مسلم خواتین آزاد تھیں۔ امیرالمؤمنین خواتین کا مشورہ قبول فرماتے تھے۔

اس موقع پر مولانا فرید الدین صاحب استاذحدیث دارا لعلوم وقف دیوبند نے کانفرنس میں خواتین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اہل ایمان اور اہل شریعت کو،شریعت اسلامی کا پابند ہونا ہوگا تب جاکر شریعت کا تحفظ ممکن ہوگا۔ قرآن کریم میں خطاب اہل ایمان سے ہے کہ وہ شریعت اسلامی کی پوری پابندی کریں۔ آخر میں انھوں نے اجلاس میں شریک ماؤں،بہنوں سے اپیل کی کہ اولاد کی تربیت انکی اولین ذمہ داری ہے جس کو وہ پورا کریں۔

   کانفرنس کے دوسرے سیشن میں ڈاکٹر اسماء زہرہ مسؤلہ ویمنس ونگ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نے اپنے صدارتی خطاب میں ”تحفظ شریعت“ کے عنوان پر مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ملک کی فسطائی طاقتیں وقفہ وقفہ سے مسلمانوں کے ذیلی لا تعلق مسائل کو مسلمانوں سے منسوب کرکے بدنام کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔طلاق، تعددازدواج، کثر ت اولاد، قضائت، یوگا، سوریہ نمسکار، وندے ماترم، گاؤکشی جیسی باتوں میں الجھا کرمسلم خواتین کو ٹارگیٹ کرکے ملک کے عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جارہی ہے کہ اسلام میں مرد و عورتوں کے حقوق میں مساوات نہیں اور مسلم عورتوں پرظلم و زیادتی ہورہی ہے وغیرہ۔

 انھوں نے کہا کہ ہمارے ملک ہندوستان کی خواتین کے حقیقی مسائل، جہیز،گھریلو تشدد، عورتوں کا تحفظ، رحم مادرمیں بیٹی کا قتل، دختر کشی وغیر ہ ہے۔ طلاق کا ایک جھوٹا پروپیگنڈہ کیا جارہا ہے۔ حکومت کے ایک سروے کے مطابق دوسرے مذاہب کی لڑکیوں کے مقابلے میں مسلمان عورتوں اور لڑکیوں کو بھرپور غذاملتی ہے اور وہ غذائی کمی کاشکارنہیں، دختر کشی کا تناسب بھی مسلمانوں میں نہ کے برابر ہے۔ جس سے پتہ چلتا ہے کہ بیٹیاں مسلم سماج میں محفوظ ہیں۔

 انھوں نے خواتین سے گذارش کی کہ وہ شریعت اسلامی پر مکمل ایقان رکھیں۔ اسکے نفاذ اور تحفظ کیلئے اپنی جان دینے کو تیار رہیں۔مسلم خواتین شریعت میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کو ہرگز برداشت نہیں کرسکتیں۔ آخر میں انھوں نے اپیل کی کہ موجودہ حالات کے مقابلے کیلئے تعلیم، تربیت،اتحاد اور اصلاح معاشرہ کی ضرورت ہے۔ آپ سب خواتین اپنی صلاحیت، وقت اور پیسہ اس کام میں لگائیں تاکہ ایک صالح معاشرہ کی تعمیر و تشکیل ہوسکے۔

2/فروری بروز جمعرات صبح دس تا پانچ بجے شام کو ہیراپیلس، عیدگاہ روڈ، دیوبند میں منعقدہ اس  پروگرام  کا آغازتلاوت کلا م پاک سے ہوا۔  ڈاکٹر اسماء زہرہ صاحبہ، مسؤلہ ویمنس ونگ آل انڈیامسلم پرسنل لا بورڈ نے کانفرنس کی صدارت کی۔مہمانان خصوصی میں خاتون ارکان بورڈمحترمہ ممدوحہ ماجد صاحبہ رکن عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈاورمحترمہ زینت مہتاب صاحبہ رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ، محترمہ عطیہ صدیقہ صاحبہ رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ نئی دہلی اوردیگر مقررات میں اہلیہ جناب مولانا سید محموداسعد مدنی صاحب جنرل سکریٹری جمعیۃ علماء ہند، محترمہ صفیہ صاحبہ،اہلیہ مولانا محمد سفیان قاسمی صاحب،محترمہ حسینہ صاحبہ،اہلیہ محترمہ مفتی احمد سعد صاحب، محترمہ شائستہ صدیقی صاحبہ، اہلیہ جناب حسین احمد مدنی صاحب،محترمہ حنا صاحبہ اور کنوینر محترمہ خورشیدہ خاتون صاحبہ نے مخاطب کیا۔ سینکڑوں خواتین و طالبات نے اس کانفرنس میں شرکت کیں۔ دعاء پر اس کانفرنس کا کامیاب اختتام عمل میں آیا۔
 


Share: